چار حلقے
اکثر دوست بحث و تمحیض کے دورن جب لاجواب ہو جاتے ہیں تو آخری ہتھیارکے طور پر پوچھتے ہیں اگر نواز شریف سچا تھا تو چار حلقے کیوں نہیں کھولے، آج سوچا جواب دے ہی دوں۔ چار حلقے عمران خان کی بکواس زبان اور گیدڑ بھبھکیوں، بے صبری، سیاسی نظام سے نا واقفییت اور اس کے پہلے سے طے شُدہ گھٹیا ارادوں کی وجہ سے نہیں کھل پائے، آئیے پہلے ان چاروں حلقوں کے بارے میں انفرمیشن حاصل کر لیں پھر آگے بات کرتے ہیں، سنی سنائی اور رٹی رٹائی بات آگے کرنے سے بات میں وزن پیدا نہیں ہو جاتا۔ ۔ ۔ ایک حلقے میں ترین صاحب نے خود سپریم کورٹ سے سٹے آرڈر لیا ہوا ہے کہ اسے نہ چھیڑا جائے حالانکہ ن لیگ کا اُمیدوار وہاں سے ہارا تھا۔ دوسرے حلقے کے امیدوار میرا خیال ہے بیرسٹر عثمان نام ہے شاید، آج تک الیکشن ٹربیونل کے آگے پیش ہی نہیں ہوئے نہ کسی نوٹس کا جواب دیتے ہیں وہ باہر جا کر بیٹھ گئے ہیں، باقی دو حلقے الیکشن کمیشن کے پاس ہیں مگر خان صاحب نے اظہارِ عدم اعتماد کر دیا الیکشن کمیشن پر اور مطالبہ کر دیا کہ سپریم کورٹ معاملہ دیکھے، جبکہ سپریم کورٹ تب تک معاملہ ہاتھ میں نہیں لیتی جبتک الیکشن کمیشن اپنا موقف نہیں سنا دیتا، اور الیکشن کمیشن تحقیقات کے بغیر کیسے فیصلہ سُنا دے؟ تحقیقات میں یہ لوگ پیش نہیں ہوتے اور عدم اعتماد کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ کر کے واپس آ گئے مگر پیش نہیں ہوئے، صاف ظاہر ہے آب پارہ والے ڈیڈی (عرف انگلی والے ایمپائیر) نے منع کیا ہوا ہے کہ پیش ہو گئے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اور پھر ایجی ٹیشین کا کوئی بہانہ نہیں بچے گا۔ ن لیگ کو کام کرنے کا موقع مل جائے گا۔ مطلب اگلے الیکشن میں پھر ہاتھ کچھ نہیں آنا۔ ملتان میں اُسی الیکشن کمیشن کا فیصلہ قبول بھی ہو گیا اور اس پر اعتماد بھی آ گیا!! یعنی جب جیت جاؤ تو الیکشن کمیشن پر اعتماد بھی ہے، نظام بھی ٹھیک ہے، ہار جاؤ تو نہ اعتماد ہے اور نظام بھی غلط، بچگانہ سیاست اور کسے کہتے ہیں ؟اس آدمی کا کیا یہ مؤقف نہیں کہ نواز شریف نے حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی الیکشن ہائی جیک کر لیا؟ جو شخص حکومت میں ہوتے ہوئے الیکشن ہائی جیک نہ کر سکا وہ حکومت سے باہر رِہ کر کیسے کر سکتا ہے؟ دیکھا جائے تو یہ سارا رنڈی رونا صرف اس لئیے ہے کہ ن لیگ کوئی کام نہ کر لے، بہانہ کبھی چار حلقے، کبھی استعفٰی اورکبھی غلط نظام، مقصد ایک ہی ہے، کوئی کام نہ کر لیں۔
جس دن دھرنے کا اعلان کیا وہ چار حلقوں کے لئیے تھا، لاہور سے نکلنے لگے تو فرما دیا استعفٰی لینے جا رہا ہوں، بتالیس دن دھرنہ دینے کے بعد اعلان فرما دیا کہ نظام تبدیل ہو گا، متبادل نظام کونسا آیے گا آج تک نہیں بتایا۔ کیا اسلامی نظام لائیں گے؟ آ گیا تو اس کے اندر تو سب سے پہلے آپ ہی قابلِ سزاوار ٹھریں گے( اوہ معافی چاہتا ہوں یہ تو اُن کا اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے)
مجھے آج تک کوئی انصافی اس بات کا جواب نہیں دے سکاکہ
نواز شریف کا تو سب کو پتا ہے انڈسٹریلسٹ ہے انڈسٹری لا کر ہی جابز پیدا کرتا ہے، خان صاحب کے پاس کونسا آلٹرنیٹ ہے؟ کیپیٹلزم کے اندر رہتے ہوئے جابز پیدا کرنے کا اور کونسا طریقہ وضع فرما لیا ہے؟ اگر انڈسٹری اور انوسٹمنٹ ہی لانا ہے تو وہ کام نواز کافی بہتر کر سکتا ہے اور کر رہا ہے۔ یہی بات پوچھی جائے تو شوکت خانم اور نمل اٹھا کر آگے رکھ دی جاتی ہے، وہی گھِسے پٹے رٹے رٹائے جوابات، اگر جواب ہے تو پھر ایدھی صاحب اور شفیق چھیپا صاحب تو کہیں زیادہ کرتے ہیں۔ اکو نو می درست کرنے کی سٹریٹیجی پوچھی جائے تو اسد عمر کی تصویر دکھا دی جاتی جس کی واحد کوالیفیکیشن ہائی سیلیری لینا ہے جو کے بزاتِ خود کوئی کوالیفیکیشن نہیں، یاد ہے شہباز شریف کا سب سے نکمّا اور فیل شدہ پراجیکٹ سستی روٹی؟ اُس کے ارکیٹیکٹ جناب اسد عمر ہی تھے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ میں ایک کتاب لکھ سکتا ہوں۔ ن والے تو نورے ٹھرے کیا پی ٹی ورکرز کی بیہودگیاں بد تمیزیاں عدم برداشت، غیر منتقی رویہ، دلیل سے عاری سوچ، ثبوت کے بغیر مسلسل الزامات کی سیاست، ٹرک کی بتی کے پیچھےلگنے والے خیالات نظر نہیں آتے؟ کیا آپ نے واقعی پونڈی، بچیاں، بچی ٹھوکنا، بچی اٹھانا، دوائی (چرس)، بھنگڑا یا پھر بھنگڑے کے دوران بچھوُ بننا جیسے الفاظ اور ٹرمزبرگر بچوں سے نہیں سُنی؟ اگر نہیں تو پھرآپ حقیقت سے بہت بہت ۔ ۔ بہت ہی دور ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کے جو شخص اٹھارہ سال میں ورکرز کی تربییت نہ کر سکے ورکرز کے اجتماعی رویئے کو انارکی کے لئیے استعمال کرے وہ تین ماہ میں ملک کو تبدیل کرنے کی بات کرتا ہے
، very interesting:)
بیکن ہاوس کے مالک خورشید قصوری اور قائداعظم سکولز کے مالک اسد قیصر کو ساتھ کھڑا کر کے یکساں نظامِ تعلیم کی بات کرنا، نذرانہ خور جاگیردار کو برابر کھڑا کر کے جاگیرداروں اور روائیتی سیاستدانوں کو گالیاں دینا، آپ کو کیسے نظر نہیں آتا؟ جو عامر ڈوگر 2013 میں ہاشمی کے مقابلے میں قبضہ گروپ اور بھتہ مافیا تھا ملتان کے جلسے میں اس کا ہاتھ اونچا کر کے فرمایا یہ تبدیلی لائے گا!! 2002 سے ابتک سینکڑوں انٹرویوز میں فرما چکے کہ مشرف نے وذارتِ اعظمٰی کی آفر کی لیکن میں نے جواب دیا کے پہلے چوہدریوں سے جان چھڑواو، جناب نے چوہدریوں کی وجہ سے وزارتِ اعظمٰی ٹھکرا دی اور بعد میں انھی چوہدریوں کے ساتھ مل کر وزارتِ اعظمٰی کے حصول کے کے لیئے اکونومی کے اینٹ سے اینٹ بجا دی؟ آپ کو اپنی آنکھ کا شہتیر تو نظر نہیں آتا دوسروں کو محدود سوچ کا طعنہ؟ آفرین ہے بھئی:)
تمام دوسروں کو غلیظ اور خود کو پاک صاف قرار دینا، مسائل کو ڈائلاگ کی بجائے پُر تشدد سوچ سے حل کرنے پر زور، قوم کو متحد کرنے کی بجائے شارٹ ٹرم اچیومنٹس کے لئیے قوم میں انتشار جیسےلانگ ٹرم مسائل پیدا کرنا، اپنی تہذیبی و مذہبی روایات کو جھٹلا کر صرف جلسوں میں رونق میلا پیدا کرنے کے لئیے پبلکلی ناچ گانا کلچر متعارف کروانا اگر محدود اور سطحی سوچ نہیں ہے تو یقینناً آپ کا قصور نہیں۔ آپ کی ڈکشنری کا قصور ہے۔بغیر تعلیمی، اخلاقی اور سیاسی تربییت کے شارٹ ٹرم آپشن استعمال کریں گے تو فری فال ڈائیو، کولیٹرل ڈیمیج میں کنورٹ ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً آپ صرف غیر ملکی ایجنسیوں کے آن پیڈ ایجنٹ ہی بن کر رِہ جاتے ہیں کیونکہ بہر حال آپ اُن کا ایجنڈا ہی پورا کر رہے ہوتے ہیں۔ اللہ ہمارے اور آپ کے لئیے آسانیاں پیدا فرمائے۔